06:11:43 PM, 27-May-2024
+91-9472477241, 9973918786     info@jamiah.in
اردو English हिन्दी
فارغین طلبہ پورٹل
مختصر تعارف درس نظامی

عہد نبوی میں تعلیم کی ابتداء قرآن مجید سے ہوئی،حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ ساتھ احادیث کی نشر و اشاعت اور درس تدریس کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا،پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیااور علمی ضرورتیں بڑھتی رہیں،فنون میں بھی حسب ضرورت اضافہ ہوتا رہا،دوسری صدی ہجری کے وسط تک علوم و فون،قرآن،حدیث،فقہ اور اشعار عرب پر منحصر تھے،ان کے بعد چوتھی صدی کے اواخر تک جو ایجاد و تدوین کا دور کہلاتا ہے اس میں تمدنی ترقی کے ساتھ مختلف فنون کے ایجاد اور ترجمے عمل میں آئے،اور حسب ضرورت بعض فنون کی تعلیم و تدریس بھی ہونے لگی،چنانچہ حدیث،تفسیر،اصول فقہ،صرف،نحو،لغا ت،اشعار عرب اورتاریخ وغیرہ اس زمانہ کے علوم کا بھی اضافہ کیا گیا۔
پانچویں اور ساتویں صدی کے درمیان امام غزالی ؒ کے ذریعہ علم کلام کی بنیاد پڑی اور اس کی تائید کے لئے مذکورہ علوم کے علاوہ منطق اور فلسفہ وغیرہ علوم ِمعقولہ بھی اسلامی درسگاہوں کا ضروری جزء بن گئے۔اگر چہ یہ علوم کم و بیش تمام اسلامی ممالک میں متداول تھے،تا ہم مختلف ممالک میں ملکی،مقامی اور قومی خصوصیت کا اثر پڑنا بھی ناگزیر تھا۔ایران میں منطق و فلسفہ کا مذاق غالب تھا اوع خراسان و ماوراء النہر میں فقہ،اصول فقہ اور تصوف کا زیادہ رواج غالب تھا۔لیکن اسی کے ساتھ ایک ہی ملک میں مختلف زمانوں میں ماحول کے اثرات اور گرد و پیں کے تقاضوں کے باعث بھی اکثر نصاب میں تغیر و تبدل ہوتا رہا ہے۔سطان شہاب الدین غوری(۷۹۵ھ تا ۲۰۶)کے عہد میں خراسان و ماوراء النہر میں تفسیر و حدیث کے ساتھ فقہ،اصول فقہ اور تصوف، صرف،نحوبلاغت،ادب،منطق اور علم کلام معیار فضیلت سمجھے جاتے پھر بھی فقہ و اصول فقہ کو زیادہ اہمیت حاصل تھی،ہندوستان میں آنے والے مسلمان زیادہ تر انہیں ممالک سے تھے،لہذا ان کے رحجانات کا آنا بھی لازم تھا چنانچہ ہدوستان میں اس دور کے نصاب تعلیم میں یہ سب علوم داخل اور جزو نصاب تھے۔
نویں صدی ہجری کے اواخر میں معیار فضیلت کو کسی قدر بلند کرنے کے لئے قاضی عضد الدین کی تصانیف مطالع و مواقف اور علامہ سکاکیؒکی مفتاح العلوم داخل نصاب کی گئی۔ اس دور میں میر سید شریف جرجانی ؒ کے تلامذہ نے شرح مطالع اور شرح مواقف اور علامہ تفتازانی کے شاگردوں نے مطول اورمختصر المعانی اور تلویح وشرح عقائد نسفیکو رواج دیا۔نیزاس زمانہ میں ں شرح وقایہ ار شرح جامی داخل نصاب کے گئیں۔اس دور کے آخر میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ نے علماء حرمین سے علم حدیث کی تکمیل کے بعد علم حدیث کو فروغ دینے کی کوشش کی،ان کے بعد آپ کے فرزند شیخ نور الحق نے بھی گر کامیابی ہ ہو سکی۔ایک بار پھر معیار فضیلت کو بلند تر کرنے کے لئے میر فتح اللہ جو شیرا ز سے ہندوستان آئے تھے،انھوں نے کچھ جدید اضافہ کئے جس کو علماء نے فورا قبول کر لیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ جو اس دور کے سب سے زیادہ نامور عالم تھے،حرمین شریفین گئے اور شیخ ابو طاہر کردی علیہ الرحمہ سے علم حدیث کی تکمیل کی،اور ہندوستان آکراس سر گرمی سیاس کی اشاعت کی کہ جس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔حضرت شا ہ ولی اللہاور ان کے اخلاف نے سحاح ستہ کے درس و تدریسکو اپنی سعی و کوشش سے جزء نصاب بنادیا۔
بارہویں صدی ہجری میں حضرت شاہ صاحب کے ہم عصرحضرت ملا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمہ نے نصاب سابق میں اضافہ کر کے ایک نیا نصاب مرتب کیا جومدارس اسلامیہ آج ”درس نظامی“ کے نام مشہور ہے۔ اس نصاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ کہ طالب علم میں امعان نظراور قوت مطا لعہ پیدا کرنا ہے۔ گو اس نصاب کی تحصیل کے بعد کسی مخصوص فن میں کمال حاصل نہیں ہو جاتا،مگر یہ صلاحیت ضرور پیدا ہو جاتی کہ محض اپنے مطالعہ اور محنت سے جس فن میں چاہے کمال پیدا کر لے۔
تیرہویں صدی ہجری کے وسط میں ہندوستان میں تین علم کے مراکز قائم تھے،دہلی،لکھنؤ اور خیرآبادگو نصاب تعلیم تینوں کا مشترک تھا تاہم تینوں کے نقطہ ہائے نظر مختلف تھے۔دہلی میں تفسیر و حدیث پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی اور حضرت شاہ صاحب کا خاندان اس میں ہمہ تن مشغول تھا،لکھنؤ میں فقہ و اصول فقہ کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتے اور تفسیرمیں جلالین و بی ضاویاور حدیث میں مشکوۃ المصابیح کافی سمجھی جاتی تھی۔خیرآباد میں علمی موضوع صرف منطق و فلسفہ تھا۔ اور یہ علوم اس قدر اہتمام سے پڑھائے تھے کہ جملہ علوم کی تعلیم ان کے سامنے ماند پڑگئی تھی۔
جامعہ حسینیہ مدنی نگر میں درجات ِ دینیات،حفظ، فارسی اور عربی چہارم تک کی تعلیم ہورہی ہے، عربی وفارسی درجات کا نصاب تعلیم ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے عین مطابق ہے، اور شعبۂ حفظ ودینیات کی تعلیم اور طریقۂ تدریس ملک کے مشہور اور تجربہ کار اساتدہ کی رائے ومشورہ سے مرتب کیا گیاہے، جس کے الحمد للہ بہتر اور مثبت نتائج بر آمد ہورہے ہیں، طلبہ بڑی آسانی اور کم وقت میں تصحیح وتحفیظ قرآن پر اپنی گرفت مضبوط کر لیتے ہیں، اور ساتھ ہی حفظ وناظرہ کے بچوں کو اردو اور دینیات کی تعلیم اور لکھائی کا مشق کرایا جاتا ہے، اور عربی وفارسی کے طلبہ کے لئے ایک ایک گھنٹہ ہندی،انگلش اور حساب کے لئے متعین ہے، جس میں طلبہ دلچسپی اور پابندی سے شریک ہوکر ابتدائی عصری علوم سے واقفیت حاصل کرتے ہیں، اس نظام تعلیم میں خصوصیت کے ساتھ یہ بات مد نظر رکھی گئی ہے کہ شعبۂ ناظرہ کے طلبہ کا مکمل طور پر قرآن درست اور ضروری قواعد تجوید انہیں حفظ ہوجائے، تاکہ وہ اگر حفظ کے بجائے درجات ِ عربی وفارسی میں داخلہ لینا چاہیں تو قرآن صحیح طور پر مخارج اورقواعد تجوید کی رعایت کرتے ہوئے کہیں بھی تلاوت کرسکیں، اور درجات حفظ کے نظام میں یہ امر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ انہیں بنیادی دینیات اور اردو لکھا ئی وپڑھائی سے مکمل واقفیت حاصل ہوجائے، تاکہ اگر وہ آگے تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکیں تو انہیں کسی طرح کی دشواری پیش نہ آئے۔

Jamia Husainia Madni Nagar Kishanganj
+91-9472477241, 9973918786
info@jamiah.in
www.jamiah.in

Copyright © 2019 Jamia Husainia Kishanganj                   Website Developed By : Madni Soft Solutions (08273074473)

  • QR Code
  • Donation
  • Whats App
  • Facebook
  • Youtube
  • Twitter
  • Instagram